Skip links

ہے شباب اپنے لہو کی آگ میں جلنے کا نام

 

از: مجیب الرحمن تمیم حیدرآباد 

 

جوانی؛ جواں دم زندگی ایک پھول تو جوانی اس کی خوشبو ہے، حیات اگر دل ہے تو شباب اس کی آرزو ہے، زندگی اگر منزل ہے تو جوانی اس کی جستجو ہے، جوان اور جوانی آئینے کا عکس اور پھولوں کا رس ہے بلکہ شباب خورشید کے سلگاؤ، شاخوں کے جھکاؤ، چشمہ کے بہاؤ اور موم کے پگھلاؤ کے مانند ہے، جوانی کا وجود بادل کی روا، بلبل کی نوا، چقماق کی سختی، شراب کی مستی، شہد کی مٹھاس اورسمندر کی پیاس کی طرح ہے، جوانی کہکشاں کے حسن بے کراں اور خلوص ومحبت کی داستاں کانام ہے، جوانی انسان کا مطلوب بھی ہے اور زندگی کا اسلوب بھی۔

نوجوان؛ امیدوں کا گہوارہ

نوجوان ہی دراصل کسی قوم کا قیمتی اثاثہ، نفع بخش سرمایہ اور تابناک مستقبل ہوتے ہیں، وہ چاہیں تو اپنے حسن عمل اور جذبہ خیر وصلاح سے دنیا کو رشک فردوس بنادیں اور چاہیں تو نمونہ جہنم، نوجوان بلاشبہ قوموں کا مقدر ہیں وہ چاہیں تو درخشندہ مستقبل اور روشن امیدوں کے سورج اجال دیں اور چاہیں تو ان پر جہالت ورذالت کی کبھی نہ ختم ہونے والی شب تیر مسلط کردیں، نوجوان ملک وملت کا مستقبل ہوتے ہیں، قوم کے معمار ہوتے ہیں، وہ قومیں خوش نصیب ہوتی ہیں جن کے نوجوان فولادی ہمت اور بلند عزم واستقلال کے مالک ہوتے ہیں، کامیابی ہمیشہ ان قوموں کا مقدر ہوتی ہے جن کے نوجوان مشکلات سے گھبرانے کے بجائے دلیری سے مقابلہ کرنے کا ہنر جانتے ہوں، وہ قومیں ہمیشہ سرخ رو رہتی ہیں جن کے نوجوان طوفانوں سے ٹکرانے کا حوصلہ رکھتے ہیں، جوانی وہ عرصہ حیات ہے کہ جس میں ہمتیں جوان اور حوصلے بلند ہوتے ہیں، تاریخ کی پشت ایسی شہادتوں سے بوجھل ہے۔

زندگی کا اہم مرحلہ جوانی

جوانی زمانہ نشاط، عصر کارکردگی اور عبادت سے لذت حاصل کرنے کا وقت ہے، جوانی کی عمر انسان کی زندگی کا قوی ترین دور ہوتاہے بلاشبہ نوجوان ہی امت مسلمہ کا قیمتی سرمایہ ہے، باہمت، باشعور، متحرک، پرجوش اور پر عزم نوجوان ہر زمانے میں اسلامی انقلاب کے نقیب رہے ہیں، جو ان بلند عزائم کے مالک، جہد مسلسل اور جفاکشی کے خوگر ہوتے ہیں، بلند پروازی ان کا اصل ہدف اور چیلنجز کا مقابلہ ان کا مشعلہ ہوتاہے، بے پناہ صلاحیتیں ان میں پنہاں ہوتی ہیں، شاہینی صفات سے وہ متصف ہوتے ہیں، وہ ہواؤں کارخ موڑنےکی صلاحیت رکھتاہے، باطل کی سرکوبی اور حق لاشریک جیسا عظیم اعلان کرنے سے بھی نہیں کتراتے میدان کارزار میں شکست کو فتح میں تبدیل کرنے کی قوت ان میں ہوتی ہے، نوجوان ہی ایک قوم کوترقی یافتہ بنانے کی خاصیت رکھتاہے، ایک نوجوان کی اہمیت وافادیت کو بیان کرتے ہوئے ’’عصر حاضر اور نوجوان‘‘ نامی کتاب کے مصنف لکھتے ہیں کہ ’’قوتوں، صلاحیتوں، حوصلوں، امنگوں، جفاکشی، بلند پروازی اور عزائم کا دوسرا نام نوجوانی ہے، کسی بھی قوم وملک کی کامیابی وناکامی، فتح وشکست، ترقی وتنزلی اور عروج وزوال میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتاہے، ہر انقلاب چاہے وہ سیاسی ہو یا اقتصادی، معاشرتی سطح کا ہو یا ملکی سطح کا، سائنسی میدان ہو یا اطلاعاتی ونشریاتی میدان غرض سبھی میدانوں میں نوجوانوں کا کردار نہایت ہی اہم اور کلیدی ہوتا ہے، ماضی میں بھی جیساکہ تاریخ سے ثابت ہے ہر چھوٹی بڑی تبدیلی نوجوانوں ہی کے ذریعہ آئی ہے زمانہ حال میں بھی ہر چھوٹی بڑی تنظیم یاتحریک چاہے سیاسی ہو یا مذہبی، سماجی ہو یاعسکری ان میں نوجوان ہی پیش پیش ہیں، مستقبل میں بھی ہر قوم وملک اور تنظیم انہی پر اپنی نگاہیں اور توجہ مرکوز کی ہوئی ہے‘‘باہمت، باحیا، باصلاحیت، غیور، بہادر اور جرات مند نوجوان ہی قوموں کو جینے کا سلیقہ سکھاتے ہیں، یہ نوجوان ہی ہے جو ہر قوم وملت اور تحریک کیلئے امیدکی واحد کرن ہوتے ہیں، لیکن یہ بات بھی بدیہی ہے کہ یہ طبقہ تب ہی قوم وملت کے لئے کارگر ثا بت ہوسکتاہے جب اس پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے، یہ طبقہ ہی ملت کیلئے سایہ دار اور ثمرآوردرخت بن سکتاہے جب ملت کا ہر طبقہ ان کی تعلیم وتربیت اور اصلاح کیلئے اپنی تمام صلاحیتوں اور ذرائع کو بروئے کار لانے کا تہیہ کرلے، سماج کے اسی اہم طبقہ کی ذمہ داریوں کے تعلق سے یہ مضمون سپرد قرطاس ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔جاری

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?