Skip links

چراغ محبت

 

از: نعمان شاھد جونپوری

 

سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جس پر قلم نہ اٹھایا گیا ہو،ایسا کوئی پہلو نہیں ہے جس پر لکھا نہ گیا،ایسی کوئی زبان نہیں ہے جو مدح آقائے کائنات سے آراستہ و پیراستہ نہ ہو،کوئی ایسا شخص نہیں جو آپ کے ذکر و بیان سے رطب اللسان نہ ہو،

یقینا نہ کوئی ایسا گوشہ ہے ، نہ کوئی ایسا پہلو ہے اور نہ ہی کوئی ایسی زبان ہے جس پر خامہ فرسائی نہ کی گئی ہو۔خطابت کے شہسوار،قلم کے شاہکار،انشاء پرداز،منظوم جواہر، لے کر ادیب و خطیب شاعر سب دربار رسالت میں حاضری کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں اور سب نے جبین عقیدت خم کی ہے،سب کا انداز عاشقانہ ہے والہانہ ہے دیوانہ ہے۔

اور یہ ایسا موضوع ہے جس پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی نچھاور کردی تو ان کو مداح رسول کے لقب سے نوازا گیا،اسی چیز نےانکومنبر رسول پر پہنچادیا،اور بڑے بڑے صحابہ حضرت عائشہ،حضرت ابوھریرہ،حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنھم کا خاص موضوع تھا جس نے انکو وصاف رسول کی فہرست میں کھڑا کردیا،یہ عشق یہ محبت یہ مہر والفت اس لئے نہیں کہ سیرت سرور کائنات کو اسکی ضرورت تھی بلکہ جمال سیرت تو ان سب سے مستغنی و بے نیاز ہے،لیکن یہ ان کے لئے عین سعادت ہے کہ خطیبوں کے زبان سے نکلے ہوئے اور ادیب و شاعر کے قلم سے بکھرے ہوئے لفظوں کے جس صدف کو ابر سیرت چھوگیا وہ گوہر میں ڈھل گیا،اسی کو کہنے والے نے کہا ولکن مدحت مقالتی بمحمد

قابل صد احترام قارئین: سیرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک پہلو محبوبیت و عقیدت کا ہے،دلوں میں ادب و احترام کا ہے،شاہ ہو کہ گدا،امیر ہو کہ غریب،عاصی ہو کہ پاکباز،بندہ مومن کے دل میں آپ کی محبت کا چراغ روشن رہتا ہے،گناہوں سے آلودہ معاصی کا پتلہ،ہر سو غفلت میں رہنے والے کے سامنےجب نام ختم الرسل آتا ہے تو اسکی آنکھوں میں عقیدت کا نور جگمگا اٹھتا ہے،محبت کا پیمانہ لبریز ہوکر چھلک نے لگتا ہے۔

میرے استاذ محترم مولانا حبیب الرحمن صاحب اعظمی دامت برکاتہم العالیہ فرماتے ہیں،کہ مومن ہو یا کافر سب کے دل میں محبت رسول ہے کسی کی محبت عقلی ہے تو کسی کی طبعی۔بہر حال۔

اگر ہم کتابوں کے اوراق کو کہنگا لیں تو ہمیں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دیوانگی کے،عشق و محبت و جانثاری کے اصحاب محمد اور غلامان محمد کے حب نبوی کی بے شمار و بے نظیر مثالیں ملتی ہیں۔

اسی والہانہ و عاشقانہ و بے قرارانہ محبت کے قصیدہ کے باب سے بطور مشتے نمونہ از خروارے دومثالیں ھدیہ ناظرین ہیں۔ایک مثال شاہ و حکمران کی،دوسری ایک شاعر شرابی کی۔

 

١) تاریخ فرشتہ میں بادشاہ ناصر الدین محمود کے ایک خاص مصاحب کا نام “محمد” تھا،بادشاہ اسے اسی نام سے پکارا کرتے تھے ایک دن انہوں نے خلاف معمول اسے تاج الدین کھ کر پکارا وہ تعمیل حکم میں حاضر تو ہوے لیکن بعد میں گھر جاکر تین دن تک نہیں آیا،بادشاہ نے بلاوا بھیجا تین روز غیاب کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا”آپ مجھے ہمیشہ “محمد” کے نام سے پکارا کرتے تھے لیکن اس دن آپ نے “تاج الدین”کھ کر پکارا،میں نے سمجھا کہ آپ کے دل میں مرے تعلق سے کوئی خلش پیدا ہوگئی ہے،اس لئے تین دن حاضر خدمت نہیں ہوا،ناصر الدین نے کہا:”واللہ!میرے دل میں آپ کے متعلق کوئی خلش نہیں ہے،تاج الدین کے نام سے تو میں نے اس لئے اس دن آپ کو پکارا تھا کہ اس وقت میرا وضو نہیں تھا اور مجھے ،،محمد،، کا مقدس نام بغیر وضو کے لینا مناسب معلوم نہیں ہوا۔

 

 

١) ابن الحسن عباسی نے اپنی کتاب کتابوں کی درسگاہ میں یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں،لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ نوجوانوں نے اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی،اس وقت تک وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے، قائم نہیں تھا،ادھر انا کا حال یہ تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے،جانے کیا سوال زیر بحث تھا،فرمایا:مسلمانوں میں تین شخص اب تک ایسے پیدا ہوئے جو ہر اعتبار سے (جینیس) بھی ہیں اور کامل الفن بھی،پہلے ابو الفضل،دوسرے اسد اللہ خان غالب،تیسرے مولانا ابوالکلام آزاد۔

شاعر وہ شاذ ہی کسی مانتے تھے،ہمعصر شعراء میں جو واقعی شاعر تھا اسے بھی اپنے سے کمتر سمجھتے تھے، کمیونسٹ نوجوانوں نے”فیض”کے بارے میں دریافت کیا تو طرح دے گئے،”جوش”کے متعلق پوچھا کہا،وہ ناظم ہے،”فراق”کا ذکر چھیڑا تو ہاں ہوں کہ کر چپ ہوگئے،ساحر لدھیانوی کی بات کی تو فرمایا:مشق کرنے دو،ظہیر کاشمیری کے بارے میں کہا نام سنا ہے،احمد ندیم قاسمی؟فرمایا:میرا شاگرد ہے۔

نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رخ موڑ دیا،”حضرت فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟آنکھیں سرخ ہورہیں تھیں،نشہ میں چور ہورہے تھے،زبان پر قابو نہیں تھا،لیکن چونک کر فرمایا کیا بکتے ہو؟ادب و انشاء یا شعر و شاعری کی بات کرو، اس لڑکھڑائی ہوئی آواز سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک ظالم نے سوال کیا آپ کا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا خیال ہے؟ اللہ اللہ،ایک شرابی جیسے کوئی برق تڑپی ہو،گلاس اٹھایا اس کے سر پہ دے مارا۔۔بدبخت ایک عاصی سے سوال کرتا ہے،ایک فاسق سے کیا کہلوانا چاہتا ہے؟ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا،تمہاری جرئت کیسے ہوئی؟گستاخ بے ادب،اس شریر سوال پر توبہ کرو،تمھارا خبث باطن سمجھتا ہوں،اس نوجوان کا حال یہ تھا کہ کاٹو تو بدن میں خون نہیں،اس نے بات موڑنی چاہی لیکن اختر کہاں سننے والے تھے،اسے اٹھوادیا اور پھر خود اٹھ کر چلے گئے،تمام رات روتے رہے اور یہ کہتے تھے،یہ لوگ اتنے نڈر ہوگئے ہیں آخری سہارا بھی ہم سے چھین لینا چاھتے ہیں،میں گنہگار ضرور ہوں لیکن یہ مجھے کافر بنادینا چاہتے ہیں۔

دیکھا آپ نے ایک گنہگار امتی ختم الرسل کا عشق والہانہ،

عشق رسول میں ڈوبی ہوئی اختر شیرانی کی ایک نعت پیش خدمت ہےا

اے نسیم سحر اگر تیرا گزر ہو دیار حجاز میں

میری چشم تر کا سلام کہنا حضور بندہ نواز میں 

 

تمہیں حد عقل نہ پاسکی فقط حال اتنا بتاسکی

کہ تم ایک جلوہ راز تھے جو عیاں ہے رنگ حجاز میں

 

نہ جہاں میں راحت جاں ملی نہ متاع امن و اماں ملی

جو دوائے درد نہاں ملی تو ملی بہشت حجاز میں

 

عجب اک سرور سا چھاگیا،میری روح و دل میں سما گیا

تیرا نام سے آگیا میرے لب پہ جب بھی نماز میں

 

کروں نذر نغمہ جانفزا میں کہاں سے اختر بے نوا

کہ سوائے نالہ دل ہے مرے دل کے غمزدہ ساز میں

 

ناظرین: یہ حقیقت بلکل عیاں ہے کہ ہمارے اکابر و اسلاف نے حب نبوی کا وہ عملی نمونہ پیش کیا ہے جسکا اہل ایمان سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ان کے نزدیک رسول  اللہ ماں باپ،  اولاد اور اپنی جانوں سے  بھی زیادہ محبوب ہوں۔ یقینا ہمارے اکابرین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی محبت کرکے دکھائی۔  ان کے ہاں صرف محبت اور عشق رسول کے دعوے نہیں تھے بلکہ عمل سے وہ اس کا ثبوت بھی فراہم کرتے تھے۔صرف زبان سے یہ کہہ دینا کہ ہم اللہ سبحانہ وتعالی سے اور نبی اکرمؐ صلی اللہ علیہ وسلم سے دل وجان سے محبت کرتے ہیں، کافی نہیں ہے؛ بل کہ آپؐ سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ان احکام خداوندی کو بجا لائیں جن کا اللہ تعالی نے حکم دیا اور ان چیزوں سے رک جائیں جن سے ذات باری تعالی نے منع فرمایا ہے۔قرآن کریم کی ہدایات کو اپنے سینے سے لگائیں۔ ہم رسول اکرمؐ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں پر عمل کریں، آپؐ کی زندگی کو ہم اپنے لیے نمونہ بنالیں اور اسی کے مطابق ہر کام کریں۔ مختصر یہ کہ ایک مسلمان آپؐ کے اتباع میں ہی اپنی کام یابی سمجھے۔

 

لایُمْکِنُ الثَّنَاء کَمَا کَانَ حَقَّہ

بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?