Skip links

مقدمہ: صحابہ اللہ اور اسکے رسول کی عدالت میں

(از: مولانا اشرف رفيق (مدھیہ پردیش

یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ھے کہ صحابہ کی جماعت وہ جماعت ھے جنکی ایک ایک حرکت سے سنیت، شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیلیے عشقیہ جذبات جھلکتے دکھائی دیتے ہیں، اکائی کی تعداد میں نہیں سیکڑے کی تعداد میں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں کتب تواریخ ایسے واقعات اور سوانح سے بھری پڑی ہے جن سے خلوص و للہیت والی محبت عظمت اور بے تحاشا فداکاری وجاںنثاری والی صدائیں دین قیم اور شارع علیہ السلام کے حق میں گونجتی ھوئی سنائی دیتی ہیں، جنکا انکار تاریخ کے معتبر صفحات اور مستند حوالہ جات کتب پر سے دینی اور ملی اعتماد اور یقین کوختم کرنے اور داغدار کرنے کے مرادف ھے، اور ایسا کرنے سے کسی ایک شخصیت یا ایک جماعت یا ایک قوم کے مجروح ہونے کا اندیشہ نہیں بلکہ معاذ اللہ پورے مذہب اسلام پر سے استناد اور حجیت کوجڑ سے اکھیڑ پھینکنا ھے، جو کسی بھی حال میں جائز ہی نہیں بلکہ حرام اور اشد حرام ھے، گویا اسلام کے دامن کو بےعزت و بے آبرو کرنے کی بنی بنائی سازش ھے۔ واضح لفظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ھوں کہ آج صحابہ میں سے جنکے تشخص کو لیکر آپ بات کرینگے یا تو ان سے شرعی ودینی حفاظت کا کام لیا ہوگا یا نہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے انکے بارے میں (جس سے ان صحابی کی فضیلت نکلتی ہے)کوئی صحیح یا حسن درجے کی روایت آئی ھوگی یا نہیں، اور اگر خدا ناکردہ ان سے کسی خطا کا ارتکاب ھوا ھے یا نہیں اگر ہوا ھے تو بصراحت احادیث صحیحہ گواہ ہیں کہ اجتہادی خطا ہے اور وہ بھی اجر سے خالی نہیں۔ پھر کیا وجہ ھے کہ جب ان نفوس قدسیہ میں سے ہر ایک کے بارے میں قرآن و سنت اتنی رعایت کررہے ہیں کہ قدم قدم پر انکے مسائل کے سلسلے میں نہ گفتنی اور خاموش باشی کے اعلانات آویزاں کیے جارہے ہیں عوام تو عوام مسلم سماج کے کچھ خواص بھی اس فتنے کے پھندے میں آ پھنسے ہیں اور بےجا تاویل و تفریق میں پڑکر ہدف اور تختہ مشق بنے نظر آرھے ہیں۔ کیا ان تین صحابہ کے بارے میں اللہ پاک نے براءت کا اعلان نہیں فرمایا جو غزوۂ تبوک میں حضور سے پیچھ رہ گیے تھے، اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انکے بارے میں ترک تعلق کا حکم فرمایا تھا اور پھر ایک مدت گزرنے پر اللہ نے صاف صاف معافی کا مژدہ سنایا،(وعلی الثلاثة اللذين خلفوا حتى اذاضاقت عليهم الارض بمارحبت،(الآية))

اسی طرح فرمایا:والسابقون الاولون من المہاجرین والانصار والذین اتبعواہم باحسان رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ(الایة).

اس آیت مبارکہ میں باری تعالی نے رضوان خداوندی کے ساتھ ان کیلیے آخرت کے گھر میں تیار کردہ باغات و نہروں کی خوشخبری سنائی۔

اسی طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر جبکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جان نثار صحابہ سے بیعت لے رھے تھے اللہ انکی حالت کا تذکرہ کرتے ہویے فرماتے ہیں :لقد رضی اللہ عن المؤمنین اذ یبایعونک تحت الشجرة(الآية).

مشہور خطبہ ثانی جو اہل سنت والجماعت کی تقریبا و تمام مساجد میں جمعہ کے دن پڑھاجاتا ہے، اسمیں منقول ہے: اللہ اللہ فی اصحابی لاتتخذوہم غرضا من بعدی فمن احبہم فبحبی احبہم الخ، دوسری روایت میں حکم دیا رسول اللہ نے اکرموا اصحابی۔ ترجمہ: میرے صحابہ کا اکرام کرو۔ ایک اور روایت میں فرمایا: لاتسبوا اصحابی۔ میرے صحابہ کو برابھلا مت کھو، ایک اور روایت ہے حب الانصار من الایمان وبغضہم من النفاق او کما قال علیہ السلام۔ ترجمہ: انصار سے محبت ایمان کی نشانی ھے اور انسے بغض نفاق کی۔(صحیح مسلم،مشکاة،سنن الترمذي)

سوچنے کا مقام ہے اب کونسی چیز باقی رہ جاتی ھے جو صحابہ کی عظمت انکی عزت کیلیے مانع بنی ھوئی ھے، کیا وہ گنی چنی چند روایات جنکا مضمون ھی بتارہا ھے کہ وہ تو آزمائشی کیلیے ہیں جو فتن و ملاحم میں ذکر کیجاتی ہیں، مثلا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں وارد کچھ روایات، جبکہ انکے خلاف شواھد موجود ہیں، حالانکہ اگر بنظر انصاف دیکھا جاۓ تو کسی بھی چیز کی اچھائی پر اولا نظر ھونے چاھیے یہی ہماری شریعت کا خاصہ ھے اسی لیے حضور کا فرمان ھے:ظنوابالمومنين خيرا. ایمان والوں کے ساتھ اچھا گمان رکھا کرو۔ لہذا پہلی شق دینی و علمی خدمات کو لیجیے تو اس حیثیت سے ہم حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شخصیت کو دیکھتے ہیں تو روایات ملتی ہیں جنمیں حضرت کی بابت فرمایا گیا کہ آپ کاتب وحی تھے، قرآن نازل ہونے کے وقت جنسے حضور نے اس مقدس وحی کے لکھوانے کا کام لیا انمیں آپ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں، اسی طرح دوسری روایت میں حضور نے آپکے تئیں فرمایا: اللہم علم معاووية الكتاب والحساب وقه العذاب(مسند احمد ج ٤)ترجمه: اے اللہ معاویہ کو حساب و کتاب کا علم نصیب فرما اور عذاب سے حفاظت فرما۔

جب دوسری شق اجتہادی خطا ہوئی ہو اور اجر کا وعدہ آیا ھو کو لیتے ہیں تب بھی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے سلسلہ میں ایک حرف بھی کہنے کی جرات نہیں ھونی چاھیے، اور ہما شما جانتے ہیں کہ جنگ صفین اور خلافت کا مسئلہ جسے کھیل بنالیا گیا ھے اور جسکا جی چاہتا ہے کھیلتا ھے اسمیں گرچہ اجتہادی خطا کا حضرت سے احتمال ہے اور اگر یقین بھی ہے تب بھی وہ تو اجر سے خالی نہیں،پھر ہمارے لیے کب لب کشائی کا جواز کہاں سے نکل سکتا ھے۔

 

اگر ان تمام جچی تلی عبارتوں اور نصوص قطعیہ کو چھوڑ کر ہم کمزور اور بوسیدہ باتوں کو دلیل و حجت بنارہے ہیں تو ھم کمزور جماعت کا ساتھ دے رہے ہیں یہ کمال نہیں بلکہ عین نقصان کی بات ھے، اسلیے سمجھنے کی ضرورت ھے اور مشاجرات صحابہ کے بارے میں تحقیق و جستجو کرنے کے بجاۓ ہم فکر آخرت میں مشغول ہوں تو یہ ہمارے لیے دنیا و آخرت دونوں کیلے سرمایہ سعادت ھوگا

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?