Skip links

سیرت رسول کا دعوتی پہلو

 

از: شیخ ابراہیم ندیم نعمانیؔ

 

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسی علیہ السلام تک جتنے انبیاء کرام علیھم السلام دنیا میں تشریف لائے سب کی نبوت مخصوص علاقے یا مخصوص نسل تک محدود تھی۔یہ صرف نبی پاک ﷺ کاامتیاز ہے کہ آپ کی نبوت آفاقی اور عالمی ہے،جو علاقائیت یا مخصوص قومیت کی حد بندیوں سے ورا ہے۔ آپ کا فیضان تا قیامت جاری رہنے والا ہے اور آپ کی امت آخری امت ہے۔بحیثیت رسول قرآن مجید میں آپ ﷺ کے پانچ اوصاف بیان کیے گئے ہیں:

1) آپ ﷺ (نوعِ انسانی پر) گواہ ہیں۔2) بشارت دینے والے ہیں۔3)ڈرانے والے ہیں۔4)اللہ کی طرف بلانے والے ہیں۔5) چراغِ روشن ہیں۔ ان پانچ الفاظ میں حضور ﷺ کا مقصد بعثت اس طرح سمٹ آیا ہے جیسے دریا کو کوزے میں بند کر دیا گیاہو۔ ان پانچ الفاظ میں سے ہر لفظ مطالب و مفاہیم کی وسیع دنیا اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے؛مگر سر دست ہمارا مقصود آپﷺکی داعیانہ زندگی پرمختصر روشنی ڈالنا ہے۔نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی کامیاب دعوت و تبلیغ کے حوالے سے مفکر اسلام مولانا زاہد الراشدی ارقام فرماتے ہیں:

مؤرخین یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ نسل انسانی میں کوئی شخصیت ایسی نہیں گزری کہ جس نے اتنے مختصر عرصے میں اپنی جدوجہد کے نتائج حاصل کیے ہوں، ایسی شخصیت جس نے صرف ۲۳ سال کے عرصے میں اپنے مشن کو اعلان کے مرحلے سے لے کر کامیابی کے مرحلے تک پہنچایا ہو۔ رسول اللہﷺنے نبوت ملنے سے کچھ عرصہ بعد صفا کی پہاڑی پر کھڑے ہو کر سرعام دعوت دی تھی، گویا یہ آپﷺکے مشن کا اعلان تھا کہ اے لوگو! کہہ دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں ہے تا کہ تم فلاح پا جاؤ۔ اور پھر اس کے تقریباً ۲۲ سال بعد صفا کے قریب منیٰ میں کھڑے ہو کر حضورﷺنے اعلان فرمایا: رب کعبہ کی قسم میں اپنے مشن میں کامیاب ہوگیا ہوں۔ رسول اللہ ﷺنے یہ اعلان کیا کہ میں نے جس مشن کا آغاز کیا تھا آج اس کے نتائج حاصل کر لیے ہیں۔ پھر آپؐ نے اپنی کامیابی پر لوگوں کو بھی گواہ بنایا اور فرمایا کہ تم سے میرے بارے میں پوچھا جائے گا، پس تم کیا کہو گے؟ لوگوں نے کہا ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا اور پوری خیر خواہی کے ساتھ ذمہ داری ادا کر دی۔ رسول اللہ ﷺنے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور اس کے ساتھ لوگوں لوگوں کی طرف اشارہ کر کے کہا اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا، اے اللہ گواہ رہنا۔(مسلم)

سفر طائف:

آپ کی دعوتی جدوجہد کا تذکرہ کیاجائے اور سفرطائف کو نظر انداز کردیا جائے یہ کیسے ہوسکتا ہے؟بعثت کا دسواں سال تھا ، نبی کریم ﷺ تبلیغ دین اور اشاعت اسلام کی خاطر مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر طائف نامی مقام کےارادہ سے آپ ﷺنے سفر کا آغاز کیا،کہ چونکہ اب مکہ کے حالات دن بدن بگڑتے جارہے تھی، ہوا نامو ا فق ہوتی جارہی تھی ، دشمنان اسلام کی دشمنی اسلام اور مسلمانوں کےحوالہ سے روز بروز بڑھتی جارہی تھی،کبھی تو آپ پر جان لیوا حملہ کیا گیا ،کبھی تو آپ ﷺ کے ساتھ تقاسم ومقاطعہ (آپسی بائیکاٹ ) کردیا گیا تھا،کبھی جسم اور لباس مبارک کو گرد وغبار سےآلودہ کرنے کی نا پاک کوششیں کی جارہی تھیں، کبھی تو آپ ﷺ کے سر مبارک پر گندگی انڈیلی گئی تھی ، کبھی تو آپ ﷺ کے کھانے میں نا پاک اشیاء ملادی گئی تھی ،اور روز بروز مشکلات ، مصائب ، تکالیف ،بڑھتی جارہی تھی ، اور آپ کے ساتھیوں پر بھی آزمائشوں ، اذیتوں اور امتحانات کاہر دن اک نیا دروازہ کھولا جاتاتھا ، آپﷺنےسفر طائف کا ارادہ کیا ، ،اس سفر میں آپ کے ہمراہ حضرت زید بن حارثہؓ تھے ، دس دن یہاں قیام فرمایا، عوام و خواص کے سامنے دین اسلام کی حقانیت کو واشگاف کیا ، معززین علاقہ کے مکانوں پر تشریف لے ان کے سامنےاسلا م کی دعوت کی؛لیکن سب نے بے توجہی برتی ، بے رخی کا مظاہرہ کیا، آخر کار آپﷺطائف کےرؤساء کے ہاں تشریف لے گئے، ان کے سامنےآپ ﷺنےاپنے آنے کا مقصد واضح فرمایا۔ لیکن ان قسمت کے ماروں کو اسلام اور دین اسلام کی قدر وقیمت کا کیا پتہ؟ ان بد نصیبوں کی بدنصیبی تو دیکھیے! کہ انہوں نے آپ کی دعوت کو نہ صرف یہ کہ قبول نہیں کیا ؛بلکہ نہایت گستاخانہ اور مجرمانہ رویہ اختیا ر کیا ، آپ کا مذاق اڑایا ، ایک نے طنزیہ انداز میں کہا: اگر خدا تعالیٰ نےتجھے رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ خانہ کعبہ کی عزت پامال کر رہا ہے۔ دوسرنے کہا :اللہ کو تیرے علاوہ اور کوئی نہیں ملا جسے وہ رسول بنا کر بھیجتا۔ تیسرے نےفخریہ انداز میں کہا: اللہ کی قسم !میں تیرے ساتھ بات نہیں کرتا اگر تو واقعی اللہ کا رسول ہے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے تو رسول کی شان یہ نہیں کہ اس سے بحث کی جائے اور اگر تو خدا پر جھوٹ بول رہا ہے تو میری شان یہ نہیں کہ تجھ جیسے جھوٹے سے بات کروں۔اور یہ سب صرف دین اسلام کی دعوت دینے اور توحید الہی کی طرف بلانے کی بناء پر ہورہا تھا،یہ سب اس عظیم داعی کے دعوت کا نتیجہ تھا، جس نے دین کی خاطر،اسلام کے خاطر، شریعت کی خاطرسب کچھ برداشت کیا ۔

تبلیغ دین میں حضورﷺکا طرز تکلم :

ابلاغ دین میں نبی کریمﷺنے ہمیشہ نفسیات انسانی کے مسلمہ حقائق کو پیش نظر رکھا درحقیقت آپ ﷺنے اس سلسلے میں وہ اصول دئیے ہیں جو رہتی دنیا تک کے مبلغین کے لیے بہترین اور کا مل نمونہ ہیں آپ ﷺنے اپنے بارے میں ارشاد فر مایامیں معلم بنا کر بھیجا گیا ہوں۔معلمانہ کردار ادا کرنے کے لیے نفسیات انسانی کے بنیا دی پہلوؤں کو ملحوظ رکھناضروری تھا اللہ تعالیٰ نے آپﷺکو وہ تمام اصول سکھلا دیئے ۔آپ انسانی نفسیا ت کا تجزیہ کرنے کی صلا حیت سے ما لا مال تھے۔آپ کسی سے ملا قات فر ما تے تو چند ہی لمحوں میں اس کے مزاج فہم و شعور کی استعداد اور افتاد طبع کا انداز ہ فر ما لیتے اور پھر اسی تجزئیے کے مطا بق اس سے کلا م فر ما تے ۔قرآن مجید میں بھی انسانی مزاج اور نفسیا ت کے بارے میں بنیادی حقائق بیان کئے گئے ۔آپ کی نگا ہ حق شناس میں یہ اصول بھی ہر وقت رہتے تھے۔قرآن مجید نے اگر اعلا ن کیا کہ تمام انسان علم میں ایک جیسے نہیں تو حضور اکرم ﷺنے اپنی تبلیغی پا لیسی اسی اصول پر مرتب فر ما ئی کہ انسانوں سے ان کی عقلوں کے مطابق بات کرو”چنانچہ اسلوبِ تبلیغ میں ہم یہ اصول بچوں کے ساتھ بات کرتے ہو ئے، اپنے جا ن نثا ر صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سےکچھ ارشاد فر ما تے ہو ئے اور غیر مسلموں سے بحث فر ما تے ہو ئے دیکھ سکتے ہیں ۔ہر موقع و محل کی منا سبت سے مختلف انداز اختیار فر مایا۔

موقع ومحل کی مناسبت سے استدلال:

موقع کی مناسبت سے بات کرکے مخاطب کو متاثر کرنا اور بات کو موثر طورپر ذہن نشین کروانا۔حضور اکرمﷺکے طریق ِابلاغ کا اہم اصول ہے۔آپﷺایک روز عصر کی نماز کے بعد خطبہ ارشادفرمارہے تھے اتنے میں سورج غروب ہونے لگا۔آپ ﷺکا موضوع گفتگو دنیا کی بے ثباتی تھا۔موقع کی مناسبت سے آپﷺنے فرمایا:”دنیا کی گذشتہ عمر کے مقابلے میں اب اس کی عمر کا اتنا حصہ باقی رہ گیا جتنا آج کے دن کے گذشتہ وقت کے مقابلے میں اب غروب آفتاب کے وقت پر وقفہ رہ گیا ہے”دنیا کی بے ثباتی اور قرب قیامت کے لئے یہ بہت عمدہ اور برمحل مثال تھی۔غزوہ حنین کے موقع پر قربانی اور انفاق کی ترغیب دے رہے تھے اس موقع پر انصار مدینہ کی قناعت پسندی کو بنیاد بنا کر سوال وجواب کے انداز میں اپنے خطبہ کو موثر بناد یا۔مکہ کےلوگ آپﷺ کی صداقت وامانت کے معترف تھے۔آپﷺان کے سامنے اپنا پہلا خطاب ارشاد فرمایا تو اسی پس منظر کو بنیاد بنا کر ان سے پوچھا:”کیاتم نے مجھے سچا پایا یا جھوٹا؟ان سب کا جواب ایک ہی تھا۔حضور ﷺکے اس انداز نے کئی لوگوں کے دلوں میں اپنی بات کواتارد یا۔یہ خطبہ بڑا مختصر مگر دل میں اترجانے والا ہے۔اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتمہید کے بعد آپ ﷺنے فرمایا:”کوئی خبر لانے والا اپنے خاندان سے جھوٹ نہیں بولا کرتا۔اللہ کی قسم اگر میں دنیا کے تمام انسانوں سے جھوٹ بولتا بھی تو تم سے پھر بھی جھوٹ نہ بولتا۔اگر تمام دنیا سے دھوکہ کر بھی لیتا توتم سے کبھی دھوکا نہ کرتا”اس خطبے نے گہرے اثرات مرتب کیے اور اس کے الفاظ اور مضمون کو آج بھی تحریر وبیان کا شاہکار سمجھا گیا ہے۔

تالیف قلوب :

(دلوں میں محبت پیدا کرنا) سرور کائنات ﷺ کی ایک تبلیغی خصوصیت آپ ﷺ کا ’’اصول تالیف قلوب‘‘ ہے یعنی آپﷺکا وہ سلوک جو غیرمسلموں اور بعض نومسلموں کے ساتھ اس غرض سے آپ نے کیا کہ ان کو اسلام کی طرف رغبت اور اس پر استقامت ہو۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ نے اپنے قدیمی دشمنوں کی عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ اقدام تالیف قلوب (اسلام کی محبت پیدا کرنے) میں بہت مددگار ہوا اور صرف چند دنوں ہی میں دو ہزار قریش مسلمان ہوگئے۔ غزوۂ حنین کی فتح کے بعد مال غنیمت میں سے آپ نے بالخصوص نومسلموں کو زیادہ حصہ دیا جس کا مقصد بھی تالیف قلوب تھا۔ آپ کے اس طرزعمل نے ان لوگوں کو اسلام اور پیغمبراسلام سے مخلص بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اصولِ تدریج :

آپ ﷺنے مکی اور مدنی ادوار میں تدریج (رفتہ رفتہ) کے اصول کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھا۔ اسی بناء پر ۱۳ سالہ مکی دور میں صرف توحید، رسالت، آخرت اور مسئلہ تقدیر جیسے بنیادی عقائد کی تبلیغ کی گئی اور دوسرے احکام مدنی دور میں دھیرے دھیرے بتدریج دیئے گئے۔ اس کی حکمت ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا یوں بیان فرماتی ہیں کہ قرآن کریم میں جو پہلی سورہ نازل ہوئی اس میں (جنت اور) دوزخ کا ذکر ہے۔ جب معتدبہ لوگ اسلام کے دائرے میں آگئے تو پھر حلال و حرام کے احکام دیئے گئے۔ اگر شروع میں امتناعی احکام آجاتے تو لوگوں پر گراں گزرتے اور تعمیل میں تامل بلکہ انکار ممکن تھا۔ (مفہوم حدیث بخاری) آپﷺنے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی طرف روانہ کرتے وقت بھی تبلیغ میں اسی اصولِ تدریج کو ملحوظ رکھنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پہلے ان کو توحید و رسالت کی دعوت دینا اگر وہ مان جائیں تو پھر ان کو نماز کی تعلیم دینا اگر وہ قبول کرلیں تو پھر ان کو فریضۂ زکوٰۃ سے آگاہ کرنا۔ (البخاری)

خلاصہ کلام:مذکورہ تفصیلات کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ پیارے نبیﷺ کا انداز گفتگو، اسلوبِ دعوت اور تفہیم کا طریقِ کار بہت ہی دلنشیں اور دلربا ہوا کرتا تھا۔ آپ ﷺ سامعین کو کبھی زبانی سمجھاتے تو کبھی زمین پر لکیریں ڈال کربتلاتے۔ کبھی تاریخی واقعات کے ذریعے سمجھاتے تو کبھی اشاروں کنایوں سے تبلیغ و تفہیم کا حق ادا کرتے۔ آپ ﷺ نے کبھی چیخ چیخ کر، غصے میں،منہ پھاڑ کر دعوت نہیں دی۔ انتہائی نرم انداز اور بہترین اسلوب کو اپنایا۔آپ ﷺ نے دعوت تبلیغ کے حوالے سے اللہ کا ارشاد ادع الی سبیل ربک بالحکمۃ والموعظۃ وجادلہم

بالتی ہی احسن کا بھرپور خیال رکھا۔ہمیں بھی ضرورت ہے کہ انہی خطوط و نقوش کو سامنے رکھتے ہوئے دعوت و تبلیغ کا اہم فریضہ انجام دینے کی کوشش کریں۔حق تعالی ہماری مدد فرمائے ۔آمین

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?