Skip links

اسلام اور صفائی کے اصول

از: مولانا سید عاکف تمیم صاحب

اسلام ایک ہم جہت اور ہمہ گیر مذہب ہے وقتی اور

عارضی احکام یا جذباتی اُمور اسلام کی تعلیمات میں شامل نہیں ہیں

یہاں خوشی منانے کے ایسے طریقے نہیں ہے کہ کسی دوسرے کی تکلیف کا سبب بن جائیں اور نہ ہی غم اور سوگ کی کوئی ایسی روایت کہ دوسرے کی زندگی اور اس کی خوشیاں تار تار ہو جائیں

بلکہ اعتدال پسندی اسلامی نظام کا اٹوٹ حصہ ہے جو معجزاتی طور پر کسی حال میں اسلام کے کسی حکم سے جدا نہیں ہوتا ایک وقت صحابہ نے *سفر جہاد* میں پڑاؤ ڈالتے وقت اپنے خیمے کچھ اس طرح لگائے کہ راستہ جام ہوگیا تو آپ نے تاریخی جملے ارشاد فرمائے. مَنْ ضَيَّقَ مَنْزِلًا أَوْ قَطَعَ طَرِيقًا فَلَا جِهَادَ لَهُ “(.أخرجه أبو داود ٢٦٢٩)

جو شخص راستہ تنگ کرے یا راستہ روکدے اُسے جہاد کا ثواب نہیں ملے گا.

موجودہ وقت میں جبکہ ہم *عید الاضحٰی* اور اس کے مناسک کی ادائیگی میں کوشاں ہیں ہر گز اس بات کو فراموش نہ کریں کہ قربانی اور خون بہانے کے عمل سے اللہ رب العزت جس قدر خوش ہونگے اگر ہم صاف صفائی کے اصول کا لحاظ نہ کریں اور راستوں اور نالیوں میں گندگیاں پھیلائیں تو اسی قدر اُس کی ناراضگی بھی ہمارا مقدر ہوگی

ہمیں ذہن نشین رکھنا ہوگا کہ

اسلام اور طہارت، پاکیزگی، نفاست ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہے۔ قرآن کی اولین آیات ’’اقرأ‘‘ نازل ہوئی تو اس کے بعد جو دوسرا سورہ نازل ہوا وہ سورہ مدثر ہے جس میں صفائی اور پاکیزگی پر زور دیا گیا ہے۔

یَـٰۤأَیُّهَا ٱلۡمُدَّثِّرُ ۝١ قُمۡ فَأَنذِرۡ ۝٢ وَرَبَّكَ فَكَبِّرۡ ۝٣ وَثِیَابَكَ فَطَهِّرۡ ۝٤

’’ترجمہ: اے کمبل اوڑھ کر لیٹنے والے! کھڑے ہوجاؤ اور میرا حکم جاری کرو اور اپنے رب کی بڑائی بیان کیجئے اور اپنے کپڑوں کو پاک رکھئے۔ ناپاکی اور گندگی سے دور رہئے‘‘۔ (المدثر:1-5)

 

اسی طرح نبی علیہ السلام کا ارشاد ہے صفائی کے سلسلے میں آپ کا واضح اِرشاد مذکور ہےالطُّهُورُ شَطْرُ الإيمانِ، ( مسلم (ت ٢٦١)، صحيح مسلم ٢٢٣ • [صحيح]

کہ پاکی آدھا ایمان ہے

٣- [عن عائشة أم المؤمنين:] الإسلامُ نظيفٌ فتَنَظَّفُوا فإنَّه لا يدخُلُ الجنَّةَ إلا نظيفٌ

السخاوي (ت ٩٠٢)، المقاصد الحسنة ١٧٦ •

حضرت عائشہ صدیقہ رض سے مروی ہے کہ نبی علیہ السلام نے ارشاد فرمایا

اسلام نظافت والا مذہب ہے چُنانچہ صاف ستھرے رہو کیوں کہ جنت میں صاف ستھرے لوگ ہے داخل ہونگے ,

اس طرح کے اور بھی کئی ایک ارشادات ہیں جو صفائی کی اہمیت پر مشتمل ہیں

آج ہمارے اندر نہ وہ فاتحانہ شان باقی ہے جسنے روم و ایران کو تسخیر کردیا تھا اور نہ ہی وہ مفتوحانہ حکمتِ عملی جس کے آگے تارتاری جیسے وحشی قبائل بھی سرنگوں ہوکر اسلام کے گرویدہ ہوگئے تھے

ایسے موقع پر جلب منفعت کے طور پر تو نہیں کم از کم دفع مضرت کے طور پر تو ہم صاف صفائی کا اتنا لحاظ ضرور کرلیں جس سے اسلام کی غلط شبیہ غیر مسلموں میں نہ رہے تو بہت غنیمت ہے

کیوں کہ ہم ایک ایسے ملک میں قربانی کررہے ہیں جہاں کی اکثریت غیر مسلم ہے بلکہ بہت سے لوگوں کو گوشت ،خون وغیرہ سے بھی وحشت ہوتی ہے

ہمارا حال دیکھیے تو

کہاں آپ ص کے ارشادات

کہ راستے سے تکلیف ده چیز کو ہٹانا بھی صدقۃ ہے( وإماطةُ الأذى عن الطريقِ صدقةٌ:أخرجه مسلم (٧٢٠)، وأبو داود (١٢٨٥) واللفظ له) اور کہاں ہمارے *عید الاضحٰی* کے یہ ایّام جہاں پر ہماری قربانیوں اور اللہ کے راستے میں ہمارا خون بہانا بجائے اس کے کہ ہمارے پڑوسیوں رشتے داروں غریبوں کی دعاؤں اور نیک خواہشات کو سمیٹ لاتا ہمارے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے خاص طور پر اجتماعی قربانی کرنے والوں کے لیے ذمّے داری اور بھی نازک ہوجاتی ہے اس لیے ہم سب کو اس موقع سے فکر کرنے کی ضرورت ہے بہتر ہوگا کہ ہم فضلات اور گندگی کو نالی میں بہانے کے بجائے زمین میں دفن کردیں کہ یہی احتیاط سے زیادہ قریب ہے

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?