
حسن اخلاق
از: محترمہ ام انس اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنے کوصلہ رحمی کہتے ہیں اگر وہ ہمیں توڑیں تو ہم انہیں جوڑنے کی فکر کریں کوشش کریں اگر وہ ایذا و تکلیف دیں تو صبر کریں ابن عمر رضی اللہ عنہ ارشاد

از: محترمہ ام انس اپنے رشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک رکھنے کوصلہ رحمی کہتے ہیں اگر وہ ہمیں توڑیں تو ہم انہیں جوڑنے کی فکر کریں کوشش کریں اگر وہ ایذا و تکلیف دیں تو صبر کریں ابن عمر رضی اللہ عنہ ارشاد

از: محمد اشرف رفیق ایم.پی قال اللہ تعالی:ومن اللیل فتہجد به نافلة لك عسى أن يبعثك ربك مقاما محمودا(الآية). نماز تهجد کے بارے میں عرض ھے کہ یہ ایک ایسی نماز ھے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پنج وقتہ نمازوں کی

ازقلم : عبد القوی ذکی حسامی امام وخطيب مسجد لطف اللہ دهاتونگر حیدرآباد اللہ رب العزت نے انسان کو اپنا خلیفہ بنایا، اسکو اشرف المخلوقات کا طمغہ دیا، انسان کی خلقت و بناوٹ میں اپنی قدرت کے انمول نظارے جلوہ گر کیا، اور

از: مولانا مجیب الرحمٰن تمیم حیدرآباد ۔ حیدرآباد سننے، دیکھنے، آنے اور جانے والوں کیلئے تو بس بھارت کے جغرافیہ کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن اس کی تاسیس، تاریخ، تہذیب، دربار وکاروبار

از: مولانا اشرف رفیق یم.پی انا نحن نزلنا الذکر واناله لحافظون (الحجر ٩)ھمیں ہماری ماضی کی تاریخ جسے ہمارے اکابر نے دین و مذہب کی سرخروئی کا ایک روشن باب بنایا ھے اور اپنی بے پناہ کوششوں سے اسکی رگوں میں رنگ بھرا ھے،کبھی فراموش

از : مولانا محمد اشرف ایم. پی قال تعالی:وما من دابة في الارض الا على الله رزقها(الآية)،وقال ياايها اللذين امنوا لا تأكلوا الربوا أضعافا مضاعفة (الآية). معیشت انسانی اور رزق بشری کے اسباب مختلفہ دنیا بھر میں موجود ھیں،جو مختلف شکلوں صورتوں میں پھیلے

از: محمد کفیل احمد حیدرآباد امراؤ و رؤساء کے دربار میں اپنی فریاد اور ضرورت کو لیجانے میں جن مصیبتوں اور دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ذلت و رسوائی کی جس خار دار وادی میں چلنا پڑتا ہے اس سے بہت سے واقف ہوں

از: مفتی انعام اللہ حسن حیدرآباد اپنی ذات سے دوسروں کو ‘نفع پہنچانا’ اور اُن کے حق میں ‘نفع بخش بننا’ ویسے تو ہر ذی شعور کے نزدیک قابلِ تعریف اور لائقِ تقلید عمل ہے؛ لیکن قرآن مجید میں اس کو جس انداز میں “بقاء”

از : محمد سلمان مرادآباد بِاللّهِ مَنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْم. بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيْم. . إِنَّ الَّذِينَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلاَ هُمْ يَحْزَنُونَO (البقرة : 277) ترجمہ: (ہاں) وہ لوگ جو ایمان لائیں، نیک عمل

اعوذ بالله من الشيطان الرجيم. بسم الله الرحمن الرحيم. لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَحْمَةِ اللّٰهِ.( الزمر) ترجمہ: اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو۔ تشریح: ترقی کے اس دور میں جب مادیات آسمان کو چھو رہی ہیں تو یہ بات پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے