Skip links

کرسمس کی حقیقت

از ✍️ مفتی محمد کفیل احمد 

ایک دن بعد 25 دسمبر ہے جب ساری دنیا کرسمس کا تہوار منا رہی ہوگی۔ اور بہت سے مسلمان نادانی و ناواقفیت میں اس تہوار کا حصہ بن رہے ہوں گے۔ کرسمس؛ عیسائیوں کی اپنے مذہب میں ایجاد کی ہوئی وہ بدعت جس کے ہر جز کی بنیاد آسمانی وحی سے یکسر مخالف ہے۔ کرسمس چونکہ انسانی بدعت ہے تو اس کی ابتدا مختلف جگہوں اور مختلف طریقوں سے ہوئی، اور اب ساری دھرتی ایک گاؤں کے مانند ہے تو سارے طریقوں کو یکجا کر لیا گیا ہے۔

کرسمس موجودہ زمانہ میں

موجودہ کرسمس کے تعلق سے عیسائیوں کا نظریہ ہے کہ 25 دسمبر کو خدا کا بیٹا یسوع ( عیسی ) مسیح پیدا ہوا اور انھوں نے اپنی قربانی دے کر انسانیت کو ازلی گناہ پاک کیا ہے، لہذا اس دن گناہ سے آزادی دلانے پر یسوع مسیح کی حمد و ثناء بیان کی جاۓ، دعائیں مانگی جائے اور عید و خوشی منائی جائے۔ پھر وقت کے گذرتے اس تہوار میں موم بتی، کرسمس ٹری، شراب و گانا شامل کر دیا گیا۔ ہر چیز کو شامل کرنے کی باضابطہ ایک تاریخ ہے، مختلف علاقوں میں مختلف دنیوی منافع کے حصول کے لیے ان چیزوں کو کرسمس کا حصہ بنایا گیا ہے۔

کرسمس اور اسلام

اسلام حضرت یسوع (عیسی) علیہ السلام کے تعلق سے بہت ہی واضح نظریہ پیش کرتا ہے۔ جس کا اعتراف کیے بغیر عیسائی دنیا کی ساخت خود مجروح ہوتی ہے۔

١) عیسی علیہ السلام کی پیدائش دسمبر کے مہینے میں نہیں ہوئی ہے، بلکہ جولائی کے مہینے میں ہوئی ہے، کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی کی پیدائش کے وقت حضرت مریم کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: 

وَهُزِّیۤ إِلَیۡكِ بِجِذۡعِ ٱلنَّخۡلَةِ تُسَـٰقِطۡ عَلَیۡكِ رُطَبࣰا جَنِیࣰّا۔ ترجمہ: اور کھجور کے درخت کو اپنی طرف ہلاؤ، اس میں سے پکی ہوئی تازہ کھجوریں تم پر جھڑیں گی۔ 

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت فلسطین میں ہوئی، وہاں کھجور جولائی کے موسم میں آتے ہیں، نہ کہ دسمبر کے مہینے میں، تو اس آیت کی صراحت سے واضح ہوا کہ دسمبر میں پیدائش نہیں ہوئی ہے۔

پھر دسمبر کی 25 تاریخ متعین ہونے کی وجہ یہ رہی کہ تیسری صدی کے رومن بادشاہ کو مالی تعاون کی ضرورت تھی، جس کے لیے عیسائی تاجروں کی مدد درکار تھی، بادشاہ نے عیسائیت کو قبول کر لیا اور عیسائیت کو قومی مذہب بنادیا۔ چونکہ 25 دسمبر کو رومی سلطنت میں مختلف یونانی دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی تو عوام کی خوشی کے خاطر عیسی علیہ السلام کی پیدائش کو بھی اسی دن منایا جانے لگا۔

٢) حضرت عیسی علیہ السلام اللہ کے بندے ہیں نہ کہ اس کے بیٹے ( نعوذباللہ). اللہ تعالیٰ نے فرمایا: 

وَقَالُوا۟ ٱتَّخَذَ ٱلرَّحۡمَـٰنُ وَلَدࣰا. لَّقَدۡ جِئۡتُمۡ شَیۡـًٔا إِدࣰّا. تَكَادُ ٱلسَّمَـٰوَ ٰ⁠تُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡهُ وَتَنشَقُّ ٱلۡأَرۡضُ وَتَخِرُّ ٱلۡجِبَالُ هَدًّا. ( مریم ٨٨-٩٠) ترجمہ: وہ کہتے ہیں کہ اللہ صاحبِ اولاد ہے، ان لوگوں نے بہت سنگین حرکت کی۔ ان کی اس بات کی وجہ سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑے، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ٹوٹ کر گریں۔

اسی طرح اللہ نے فرمایا: لَمۡ یَلِدۡ وَلَمۡ یُولَدۡ۔ ( الاخلاص ٣) ترجمہ: اللہ نہ کسی کا باپ ہے نہ کسی کا بیٹا۔

جس تہوار کی بنیاد غلط نظریہ پر ہو اس کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے؟ قرآنِ مجید کی صریح نصوص کے خلاف اعمال کو کیسے اختیار کیا جا سکتا ہے؟ 

کرسمس کی رات

دنیا میں سب سے زیادہ شراب کرسمس کے موقعہ پر پی جاتی ہے، سب سے زیادہ ٹریفک قوانین کی مخالفت، سب سے زیادہ زنا، سب سے زیادہ عورتوں پر ظلم اور سب سے زیادہ فضول خرچی کرسمس کے موقعہ سے کی جاتی ہے، انسانوں کا بنایا ہوا مذہب بھی اس قسم کے گناہوں کی اجازت نہیں دیتا ہے، پھر خدائی مذہب کیسے دے سکتا ہے؟ یقیناً یہ نفس پرست انسانوں کی کارکردگی ہے، جس کو ساری دنیا کے خواہش پرست ہی اختیار کرتے ہیں۔

لہذا مسلمانوں کو چاہیے کہ خود بھی اس غلط تہوار سے بچیں اور اپنی اولاد کو بھی بچائیں۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: من تشبہ بقوم فھو منھم۔ ترجمہ: جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہوگا۔ اور جو قوم اپنی تہذیب و کلچر کو چھوڑ کر دوسروں کی تہذیب کو اختیار کرے تو اس قوم کا تشخص ختم ہو جاتا ہے۔

اللہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ آمین

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?