Skip links

دل کانچ نہیں، ایمان کا ظرف ہے

از ✍️ مفتی محمد کفیل احمد 

لوگوں میں ایک محاورہ معروف ہے کہ دل کی مثال کانچ جیسی ہے، ایک بار ٹوٹ جائے تو دوبارہ پہلے کی طرح نہیں ہو سکتا ہے۔ جبکہ صدیق اکبر کا یہ واقعہ سے اللہ تعالیٰ ہم سب کو حکم دے رہے ہیں کہ چاہے جتنی تکلیف دی گئی ہو، انسان کو چاہیے کہ معاف کر دے اور دل بالکل صاف کردے۔

واقعہ یوں ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر الزام لگانے والوں میں حضرت ابو بکر صدیق کے خالہ زاد مسطح بھی شامل ہو گئے تھے، حالانکہ صدیق اکبر ان کی کفالت کرتے تھے، منافقین کے پروپیگنڈا کا اثر ان پر بھی ہو گیا تھا، پھر جب حضرت عائشہ کی بے گناہی کی آیتیں نازل ہوئیں تو صدیق اکبر نے قسم کھائی کہ اب میں مسطح کی کفالت نہیں کروں گا، جس پر اللہ تعالیٰ نے سورہ نور کی آیت نازل فرمائی: وَلَا یَأۡتَلِ أُو۟لُوا۟ ٱلۡفَضۡلِ مِنكُمۡ وَٱلسَّعَةِ أَن یُؤۡتُوۤا۟ أُو۟لِی ٱلۡقُرۡبَىٰ وَٱلۡمَسَـٰكِینَ وَٱلۡمُهَـٰجِرِینَ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِۖ وَلۡیَعۡفُوا۟ وَلۡیَصۡفَحُوۤا۟ۗ أَلَا تُحِبُّونَ أَن یَغۡفِرَ ٱللَّهُ لَكُمۡۚ وَٱللَّهُ غَفُورࣱ رَّحِیمٌ. ترجمہ: اور تم میں سے جو لوگ اہل خیر ہیں اور مالی وسعت رکھتے ہیں، وہ ایسی قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں، مسکینوں اور اللہ کے راستے میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے، اور انہیں چاہیے کہ معافی اور درگزر سے کام لیں ۔ کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ اللہ تمہاری خطائیں بخش دے؟ اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ۔

اس آیت کے نزول کے بعد صدیق اکبر نے کہا: انا احب ان یغفر لی: میں چاہتا ہوں کہ میری مغفرت ہو اور اسی کے ساتھ انہوں نے حضرت مسطح کی کفالت سابقہ طرز پر جاری کردی۔

موجودہ خود غرض معاشرہ جیسے کو تیسا کی تعلیم دیتا ہے، جو جیسا سلوک کرے اس کے ساتھ اسی طرح کے سلوک کی راہ دکھاتا ہے۔ جبکہ اسلام صل من قطعك واعف عمن ظلمك۔ ترجمہ: “جو رشتہ توڑے اس سے رشتہ جوڑو، اور جو ظلم کرے اس کو معاف کرو” کی تعلیم دیتا ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم معاشرے کے بجائے اسلام کی تعلیمات پر عمل کرنے والے بنیں۔ دل کو ہمیشہ سب سے صاف رکھنے کی کوشش کریں، کیونکہ دل کی صفائی میں ہمارے دنیا و آخرت دونوں کی بھلائی مضمر ہے۔

Leave a comment

Translate »
× How can I help you?